تخت گاہ

قسم کلام: اسم ظرف مکاں

معنی

١ - دارالخلافہ، دارالسلطنت، راج دھانی، بادشاہ کا مسکن۔  عتیقیات کے ماہر انھیں دیکھیں تو بول اٹھیں کہ وارث تخت گاہ خسرو و بہمن کے بیٹھے ہیں      ( ١٩٤٦ء، اخترستان، ١٤٠ ) ٢ - وہ مکان جس میں تخت رہے۔ (جامع اللغات) ٣ - [ مجازا ]  مرکزی سرکار، کسی ملک کا بڑا شہر، ام البلاد۔ 'جب تخت گاہ حوادث کی آماج گاہ بنی ہوئی تھی - شاہ ولی اللہ صاحب کا خاندان انتہائی سکون و وقار کے ساتھ علم دین کی خدمت میں منہمک تھا۔"      ( ١٩١٧ء، مقالات شروانی، ٢٠٤ )

اشتقاق

فارسی زبان کے لفظ'تخت' کے ساتھ 'گاہ' بطور لاحقۂ ظرف استعمال کیا گیا ہے۔ اردو میں ١٦٠٩ء کو 'قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - [ مجازا ]  مرکزی سرکار، کسی ملک کا بڑا شہر، ام البلاد۔ 'جب تخت گاہ حوادث کی آماج گاہ بنی ہوئی تھی - شاہ ولی اللہ صاحب کا خاندان انتہائی سکون و وقار کے ساتھ علم دین کی خدمت میں منہمک تھا۔"      ( ١٩١٧ء، مقالات شروانی، ٢٠٤ )

جنس: مؤنث